بسم اللہ الرحمن الرحیم

استاذ العلماء پیشوائے اہلسنت
حضرت پیر محمد افضل قادری
دامت برکاتہم العالیہ

 

 جناب پیر صاحب کے متعلق ایک اور تحریر کی لیے یہاں کلک کریں

تعلیم وتربیت :
استاذ العلماء شیخ وقت حضرت صاحبزادہ پیر محمد افضل قادری نے اپنے والد گرامی استاذالاساتذہ قطب الاولیاء حضرت مولاناخواجہ پیر محمد اسلم قادری رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اساتذہ سے درس نظامی وفاضل عربی کی تعلیم حاصل کی ۔منطق وفلسفہ کی بالائی تعلیم امام المنقول والمعقول حضرت علامہ مولانا سلطان احمد چشتی سے حاصل کی۔دورۂ حدیث حکیم الامت حضرت مولانا علامہ مفتی احمد یارخان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ سے پڑھا اور فتویٰ ومناظرہ کی تعلیم امام المحدثین مفتی اعظم حضرت سید ابوالبرکات شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے حاصل کی ۔ اسکے ساتھ ساتھ میڑک،ایف اے ،بی اے اور ایم اے میں نمایاں نمبروں سے کامیابیاں حاصل کی۔

روحانی تربیت :
آپ کے والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ نے بچپن ہی سے آپ کی روحانی تربیت پر خصوصی توجہ مرکوزفرمائی اسباقِ قادریہ اور کشف القبور وکشف الصدور کے اسباق پڑھائے اور پھر آپ کو خلافت عطا فرمائی۔ علاوہ ازیں دربار غوث اعظم بغداد شریف سمیت کئی مقامات سے بھی آپ کو خلافت اور خصوصی اجازتیں عطا کی گئیں۔

تعلیمی وتدریسی خدمات :
آپ 44سال سے تفسیر وحدیث سمیت علوم عربیہ واسلامیہ کی تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں آپکے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے جو دنیا بھر میں مساجد مدارس خانقاہوں اسلامی مراکز مختلف ٹی وی چینلز ریڈیو اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے شاندار دینی تعلیمی و تبلیغی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

جامعہ قادریہ عالمیہ اور شریعت کالج طالبات جسکے آپ مہتمم ہیں یہ ادارے دنیائے اسلام کے صف اول کے دینی ادارے شمار کئے جاتے ہیں ۔ علاوہ ازیں آپ سینکڑوں مساجد ومدارس کے سرپرست ہیں ۔جس طرح آپ نے خود کو دین مصطفی کیلئے وقف کر رکھا ہے آپ کی خواہش ہے کہ آپ کی اولاد، تلامذہ اورمریدین بھی اسی طرح دینِ اسلام کیلئے وقف ہو کر شاندار دینی خدمات انجام دیں۔

تنظیمی وتحریکی خدمات :
آپ نے جماعت خدام اہلسنت کے ناظم اعلیٰ، پھر جماعت اہلسنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ (1994ء ؁تا 1998ء ؁)اوراب عالمی تنظیم اہلسنت کے مرکزی امیر کی حیثیت سے تحریکِ نظام مصطفی ، تحریک تحفظ ناموس رسالت ، تحریک بحالی آثار نبوی وقبر ام رسول ابواء شریف، تحریک ختم نبوت، تحریک بازیابی نعلین رسول، سنی کانفرنسیں، کئی کاروان نظام مصطفی، مختلف ٹرین مارچ، تحریک اصلاح معاشرہ اور دیگر بے شمار دینی وملی تحریکات ومہمات میں شاندار خدمات انجام دیں اور دین کی خاطر ملک کی مختلف جیلوں میں 13بار قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

آپ نے پاکستان کے صوبوں وکشمیر، عرب و یورپی ممالک، امریکہ وبرطانیہ میں ہزارہا اجتماعات اوربڑی بڑی کانفرنسوں سے دینی وملی موضوعات پر شاندار علمی و تحقیقی خطابات کئے اور اس سلسلہ میں لاکھوں میل سفر گاڑی پر بھی کئے اور جنرل ضیاء سے لے کر آج تک آنے والے ہر حکمران کو ملک میں نفاذ نظام مصطفیﷺ کی دعوت دی اور اس سلسلہ میں مختلف تحریکیں چلائیں۔

آپ نے2000ء ؁میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مشرف دور میں آرمی کے ہیڈکوارٹرجی ایچ کیو راولپنڈی کے سامنے اٹھارہ روز مظاہرے کرائے اور فوجی حکمرانوں سے نفاذ نظام مصطفی کا مطالبہ کیا ۔جی ایچ کیو کے سامنے مظاہروں کے دوران سید صفدر شاہ گیلانی آف کندیاں اوردیگر ساتھیوں کے ذریعے مشرف حکومت نے پیر صاحب کو 2وزارتوں کے عوض تحریک بند کرنے کی پیش کش کی جسے پیر صاحب نے مسترد کردیا۔ بعد ازں پرویز مشرف دورِحکومت میں گجرات کے چوہدری مقصود ودیگر کے ذریعے سنیٹر کی سیٹ کی پیش کش کی گئی جس کو پیر صاحب نے مسترد کر دیا۔ 1996ء ؁میں بے نظیر حکومت نے جب قانون ناموس رسالت میں ترمیم کا اعلان کیا تو آپ نے ملک بھر کے علماء ومشائخ کو جمع کر کے ایوان وزیر اعظم اسلام آباد کے سامنے دھرنا دیا ۔اسکے بعد وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے کوآرڈنیٹر یوسف چاند اور دیگر حکومتی کارندوں نے مراڑیاں شریف پہنچ کر پیر صاحب کو بے نظیر بھٹوکی طرف سے پیغام پہنچایا کہ آپ قانون ناموس رسالت میں ترمیم کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور اسکے عوض اسلام آباد میں وسیع رقبہ اور تعمیرات کیلئے منہ مانگے فنڈز لے لیں لیکن پیر صاحب نے اِن بھاری سرکاری پیش کشوں کو ٹھکرا دیا ۔

رفاہی خدمات:
آپ نے گجرات شہر اور 25دیہات کو سیلاب سے بچانے کیلئے 8میل لمبا حفاظتی بند تعمیر کرایا ۔علاقہ میں گیس، بجلی، واٹر سپلائی اور سڑکوں کی تعمیرات کرائیں ۔آزاد کشمیر میں مہاجرین کی آمد ،زلزلہ کشمیر ،زلزلہ بلوچستان اورسوات وسرحد میں دہشت گردی کے مواقع پر آپ نے دینی مدارس اور سادات وعلماء و مہاجرین و متأثرین کی بھاری امداد کرائی اور اب رفاہی امور کیلئے افضلیہ ویلفیر انٹرنیشنل کے نام سے ایک مستقل ادارہ قائم کیا جارہا ہے ۔

بارگاہ نبوی میں قبولیت :
مولانا قاری رشید احمد قادری خطیب عادووال گجرات راوی ہیں کہ حضرت پیرسید ولایت علی شاہ صاحب گجراتی رحمۃ اللہ علیہ کے مرید اورانتہائی درویش سیرت شخص حضرت حافظ غلام علی رحمۃ اللہ علیہ امام مسجد بنگلہ منڈی گجرات، مسجد مراڑیا ں شریف میں دوران اسباق پیر محمد افضل قادری کے قدموں میں گر کر رونے لگے اور آپ کے قدم چومنے لگے ،بڑے اصرار کے بعد بتایا کہ مجھے سرکار مدینہ ﷺ کی زیارت ہوئی ہے آپ ﷺ پیر محمد افضل قادری کی داڑھی پر اپنا دایاں دست مبارک پھیر رہے تھے اور فرما رہے تھے:
پیر محمد افضل قادری دین کا درد رکھنے والا مرد ہے میں پیر محمد افضل قادری سے محبت کرتا ہوں اس لئے تم بھی پیر محمد افضل قادری سے محبت کیا کرو

حضرت پیرمحمد افضل قادری نے اپنے والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ کے جنازہ کے موقع پر بتایا کہ جب وہ چوتھی بار میانوالی جیل میں نظر بند ہوئے اور 52دن حضرت غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کے محض کمرہ میں بند رہے اور اس رہائی کے فوراً بعد حضرت والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں حج بیت اللہ وزیارتِ نبوی کیلئے حرمین شریفین پہنچے تو یکے بعد دیگرے خواب میں بارگاہ نبوی سے دو خوشخبریاں ملیں ۔سرکار دوعالم ﷺ نے منیٰ میں خواب میں فرمایاتمہیں میری طرف سے دوہری سرپرستی حاصل ہے اور پھر مدینہ منورہ میں خواب میں فرمایا مراڑیاں شریف کا مدینہ منورہ سے اتصال ہے ۔پیر صاحب کے یہ دونوں خواب اور دیگر کئی واقعات وشواہد آپ کی روحانی تربیت کی تکمیل کا واضح اشارہ ہیں۔

ذالک فضل اللہ  یؤتیہ من یشاء!

مناظرے وتصانیف :
آپ نے کئی مناظروں میں مخالفین کو شکست سے دوچار کیا خصوصاً جہلم شہر میں مناظرہ مابین اہلسنت وغیر مقلدین نام نہاد اہلحدیث میں آپ اہلسنت کی طرف سے صدر مناظرہ تھے ۔وہابیوں کے کہنہ مشق وچوٹی کے مناظر ومحدث عبدالقادرروپڑی کے دوبار غلط عبارتِ حدیث پڑھنے پر آپ نے وہ ڈانٹ پلائی کہ وہابی مناظر اسکے بعدمخبوط الحواس ہو گیا اور اہلسنت وجماعت کو فتح مبین حاصل ہوئی ۔

آپکے درجنوں مقالے وخطبات زیر طبع ہیں جن میں سے کئی ایک ماہنامہ اہلسنت، ماہنامہ آواز اہلسنت ، دیگر ملکی وغیرملکی رسائل اور قومی اخبارات میں چھپ چکے ہیں۔ تدریس وخطابت کی طرح آپ کی تحریر یں بھی خواص وعوام میں بے حد مقبول ہیں اور احادیث نبوی، انکے ترجمہ اور تشریح پر مشتمل کتاب اربعین افضلیہ میں آپ نے عقائد اسلامیہ اور اختلافی مسائل کو کوزے میں دریا بند کردیا ہے۔ 

الحمد للہ آپ اس وقت قرآن مجید اور صحیح بخاری کے اردو ترجمہ اورحواشی وتفاسیر کاکام کر رہے ہیں ۔

اختتامہ :
مختصر یہ کہ دنیا اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ آپ کے اندر ایک عالم ربانی ، مرشد کامل ،عالم حق گو ،سچے خادم دین وعظیم مجاہد اسلام وپیشوائے اہلسنت ہونے کی شاندار صفات موجود ہیں ۔اور آپ میں تبلیغ واشاعتِ اسلام کے سلسلے میں کبھی کوئی کمزوری یا لچک نہیں دیکھی گئی بلکہ اس دورِمادیت میں یزیدی الصفات حکمرانوں و طاغوتی طاقتوں سے جب آپ ٹکر لیتے ہیں، یا حکومتی ایوانوں کے سامنے احتجاجی مظاہرے کرتے ہیں، یا وقت کے حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق بلند کررہے ہوتے ہیں تو آپ کی ذات میں لاخوف علیھم ولاھم یحزنون کے واضح جلوے نظر آتے ہیں۔

دعا ہے اللہ تعالیٰ آپکو اور آپکے رفقاء کار واحباب کو مزید خدمات دینیہ انجام دینے کیلئے ہر قسم کی توفیقات مرحمت فرمائے۔ آمین! وصلی اللّٰہ علی حبیبہ خیر خلقہ سیدنا ومولانا محمد وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم الراحمین۔

مرحبا اے پیر افضل قادری صد مرحبا
بول بالا تو نے دین مصطفی کا کر دیا

دہر میں ہے تو نقیب عظمت و شانِ رسول
موجزن تیری رگوں میں الفت شاہِ ہُدیٰ

اہلسنت کی جماعت کو ہے تجھ پر فخر و ناز
خواب غفلت سے انہیں بیدار تو نے کر دیا

اتحاد ملت اسلام کا داعی ہے تو
اُدْخُلُوْا فِیْ السِّلْمِ کَآفَّہ نعرہ مستانہ تیرا

ضوفشاں ہے تیرے فکر و فن سے ایوانِ وطن
ظلمتوں کے دور میں تو ایک شمع پر ضیاء