|
بسم اللہ الرحمن الرحیم
استاذ العلماء پیشوائے اہلسنت
جناب پیر صاحب کے متعلق ایک اور تحریر کی لیے یہاں کلک کریں
تعلیم وتربیت :
روحانی تربیت :
تعلیمی وتدریسی خدمات : ’’جامعہ قادریہ عالمیہ‘‘ اور ’’شریعت کالج طالبات‘‘ جسکے آپ مہتمم ہیں یہ ادارے دنیائے اسلام کے صف اول کے دینی ادارے شمار کئے جاتے ہیں ۔ علاوہ ازیں آپ سینکڑوں مساجد ومدارس کے سرپرست ہیں ۔جس طرح آپ نے خود کو دین مصطفی کیلئے وقف کر رکھا ہے آپ کی خواہش ہے کہ آپ کی اولاد، تلامذہ اورمریدین بھی اسی طرح دینِ اسلام کیلئے وقف ہو کر شاندار دینی خدمات انجام دیں۔
تنظیمی وتحریکی خدمات : آپ نے پاکستان کے صوبوں وکشمیر، عرب و یورپی ممالک، امریکہ وبرطانیہ میں ہزارہا اجتماعات اوربڑی بڑی کانفرنسوں سے دینی وملی موضوعات پر شاندار علمی و تحقیقی خطابات کئے اور اس سلسلہ میں لاکھوں میل سفر گاڑی پر بھی کئے اور جنرل ضیاء سے لے کر آج تک آنے والے ہر حکمران کو ملک میں نفاذ نظام مصطفیﷺ کی دعوت دی اور اس سلسلہ میں مختلف تحریکیں چلائیں۔ آپ نے2000ء میں پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار مشرف دور میں آرمی کے ہیڈکوارٹرجی ایچ کیو راولپنڈی کے سامنے اٹھارہ روز مظاہرے کرائے اور فوجی حکمرانوں سے نفاذ نظام مصطفی کا مطالبہ کیا ۔جی ایچ کیو کے سامنے مظاہروں کے دوران سید صفدر شاہ گیلانی آف کندیاں اوردیگر ساتھیوں کے ذریعے مشرف حکومت نے پیر صاحب کو 2وزارتوں کے عوض تحریک بند کرنے کی پیش کش کی جسے پیر صاحب نے مسترد کردیا۔ بعد ازں پرویز مشرف دورِحکومت میں گجرات کے چوہدری مقصود ودیگر کے ذریعے سنیٹر کی سیٹ کی پیش کش کی گئی جس کو پیر صاحب نے مسترد کر دیا۔ 1996ء میں بے نظیر حکومت نے جب قانون ناموس رسالت میں ترمیم کا اعلان کیا تو آپ نے ملک بھر کے علماء ومشائخ کو جمع کر کے ایوان وزیر اعظم اسلام آباد کے سامنے دھرنا دیا ۔اسکے بعد وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے کوآرڈنیٹر یوسف چاند اور دیگر حکومتی کارندوں نے مراڑیاں شریف پہنچ کر پیر صاحب کو بے نظیر بھٹوکی طرف سے پیغام پہنچایا کہ آپ قانون ناموس رسالت میں ترمیم کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور اسکے عوض اسلام آباد میں وسیع رقبہ اور تعمیرات کیلئے منہ مانگے فنڈز لے لیں لیکن پیر صاحب نے اِن بھاری سرکاری پیش کشوں کو ٹھکرا دیا ۔
رفاہی خدمات:
بارگاہ نبوی میں
قبولیت : حضرت پیرمحمد افضل قادری نے اپنے والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ کے جنازہ کے موقع پر بتایا کہ جب وہ چوتھی بار میانوالی جیل میں نظر بند ہوئے اور 52دن حضرت غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کے محض کمرہ میں بند رہے اور اس رہائی کے فوراً بعد حضرت والد گرامی رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں حج بیت اللہ وزیارتِ نبوی کیلئے حرمین شریفین پہنچے تو یکے بعد دیگرے خواب میں بارگاہ نبوی سے دو خوشخبریاں ملیں ۔سرکار دوعالم ﷺ نے منیٰ میں خواب میں فرمایا’’تمہیں میری طرف سے دوہری سرپرستی حاصل ہے‘‘ اور پھر مدینہ منورہ میں خواب میں فرمایا ’’مراڑیاں شریف کا مدینہ منورہ سے اتصال ہے ‘‘۔پیر صاحب کے یہ دونوں خواب اور دیگر کئی واقعات وشواہد آپ کی روحانی تربیت کی تکمیل کا واضح اشارہ ہیں۔ ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء!
مناظرے وتصانیف : آپکے درجنوں مقالے وخطبات زیر طبع ہیں جن میں سے کئی ایک ماہنامہ اہلسنت، ماہنامہ آواز اہلسنت ، دیگر ملکی وغیرملکی رسائل اور قومی اخبارات میں چھپ چکے ہیں۔ تدریس وخطابت کی طرح آپ کی تحریر یں بھی خواص وعوام میں بے حد مقبول ہیں اور احادیث نبوی، انکے ترجمہ اور تشریح پر مشتمل کتاب ’’اربعین افضلیہ‘‘ میں آپ نے عقائد اسلامیہ اور اختلافی مسائل کو کوزے میں دریا بند کردیا ہے۔ الحمد للہ آپ اس وقت قرآن مجید اور صحیح بخاری کے اردو ترجمہ اورحواشی وتفاسیر کاکام کر رہے ہیں ۔
اختتامہ :
دعا ہے اللہ تعالیٰ
آپکو اور آپکے رفقاء کار واحباب کو مزید خدمات دینیہ انجام دینے کیلئے
ہر قسم کی توفیقات مرحمت فرمائے۔ آمین! وصلی اللّٰہ علی حبیبہ خیر خلقہ
سیدنا ومولانا محمد وعلیٰ اٰلہ واصحابہ اجمعین برحمتک یا ارحم
الراحمین۔ |