بسم اللہ الرحمن الرحیم

عالم ربانی، ولی کامل

حضرت نیک عالم قادری

قدس سرہ العزیز

 پیشوائے اہلسنت حضرت پیر محمد افضل قادری دامت برکاتہم العالیہ کے دادا جان سراج السالکین، قدوۃ العارفین، عمدۃ الاولیاء، شیخ المشائخ، استاذ الاساتذہ، فقیہ اعظم حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری رحمۃ اللہ علیہ 1884ء کے لگ بھگ مراڑیاں شریف میں ایک خالص علمی ومذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ہوش سنبھالتے ہی آپ نے علوم دینیہ کی تحصیل کیلئے سالہا سال بڑی محنت شاقہ فرمائی اور پھر فارغ التحصیل ہونے کے بعد 1905ء میں ایک دینی درسگاہ (جوکہ اس وقت دنیا بھر میں جامعہ قادریہ عالمیہ کے نام سے مشہور ہے) کی بنیاد رکھی۔ اس وقت گجرات اور گرد ونواح میں درس نظامی کی کوئی درس گاہ نہ تھی۔ چنانچہ نہ صرف گرد ونواح سے بلکہ کشمیر اور سرحدی علاقوں تک سے کثیر طلبہ دین یہاں کھنچے چلے آئے تھے۔ مقامی ومسافر طلبہ کی تعداد ایک صد سے دو صد تک رہتی تھی۔ آپ اکیلے ہی ان طلبہ کو ابتدائی قاعدہ سے لے کر درس نظامی کی آخری کتب تک تعلیم دیتے تھے۔

آپ سے جن سینکڑوں حضرات نے علم دین حاصل کیا ان میں شیخ الحدیث سید محمد جلال الدین شاہ جامعہ محمدیہ بھکھی شریف، اساتذ العلماء حضرت مولانا پیر محمد اسلم قادری، استاذ الاساتذہ حضرت علامہ محمد نواز نقشبندی کیلانی، حضرت مولانا محمد فضل کریم قادری، صدر العلماء حضرت مولانا فیض احمد مہلوی اور حضرت مولانا علامہ علی محمد کاشمیری اور درجنوں دیگر ممتاز دینی، علمی وروحانی شخصیات شامل ہیں۔

آپ نے جامع مسجد باری والی محلہ چاہ بھنڈر گجرات میں چالیس سال تک فی سبیل اللہ خطابت کے فرائض سرانجام دیئے، کسی سے ایک پائی تک وصول نہیں کی۔ حضرت پیر سید ولایت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی گجرات آمد پر حضرت شاہ صاحب کی مسجد میں آپ کی دعوت پر ہر نماز جمعہ کے بعد وعظ فرمایا کرتے تھے اور دور دراز سے آئے ہوئے لوگوں کو مسائل کے جواب دیتے تھے۔ حضرت صاحب قبلہ اور حضرت پیر ولایت شاہ صاحب آپس میں ایک دوسرے کا بے حد احترام کرتے تھے۔ حضرت صاحب قبلہ کے وصال کی خبر سن کر حضرت پیر ولایت شاہ صاحب نے فرمایا:
افسوس! ہم قطب زمانہ سے محروم ہوگئے۔

عظیم عالم وفقیہ ومدرس ومبلغ ہونے کے ساتھ ساتھ عبادت وریاضت اور زہد وتقوی میں بھی آپ کا مقام بہت بلند ومثالی تھا۔ تعلیم وتدریس کے علاوہ اوقات میں عبادت میں مصروف رہتے تھے۔ آپ کے تلمیذ حضرت علامہ پیر سید محمد قاسم شاہ سابق خطیب نور پور شاہاں اسلام آباد، حال برطانیہ اپنے تاثرات میں لکھتے ہیں:
زمانہ طالب علمی میں رات کو جب بھی آنکھ کھلی تو حضرت استاذ صاحب قبلہ کو میں نے مصروف عبادت پایا۔

آپکے تلمیذ حضرت مولانا محمد نواز صاحب رحمۃ اللہ علیہ سابق صدر مدرس بھکھی شریف فرمایا کرتے:
استاذ محترم بیماری کے ایام میں بھی روزانہ کم از کم آٹھ سیپارے تلاوت فرماتے تھے اور اس قدر کثرت کے ساتھ تلاوت فرماتے تھے کہ تلاوت کرکے حافظ قرآن ہو گئے تھے۔ آپ اکثر روزہ سے ہوتے تھے لیکن گھر والوں کو بھی روزہ کی خبر نہیں ہوتی تھی۔ گھر سے حسب معمول مسجد میں کھانا بھیجا جاتا تو چپکے سے کسی مسکین طالب عالم کو کھانا کھلا دیتے۔ آپ صحیح معنوں میں عابد وزاہد بے ریا تھے۔

آپ عظیم علمی وروحانی پیشوا تھے لیکن خدا کے گھر (مسجد) کی صفائی اکثر خود کرتے تھے۔ کئی بار مسجد کی صفائی کیلئے اپنی قمیص یا چادر استعمال کرتے اور اس قمیص کو بڑے شوق سے پہنتے اور فرماتے مسجد کا غبار آتش جہنم سے نجات دلاتا ہے۔ آپ علماء وسادات کا بے حد احترام کرتے تھے۔ یتیموں، مسکینوں کی پرورش میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔ یتیم بچوں وبچیوں سے اپنی اولاد سے بھی زیادہ پیار کرتے تھے۔ رشتہ داروں اور ہمسایہ کے حقو ق کا خاص خیال رکھتے تھے۔ مصائب میں تعزیت کیلئے لوگوں کے گھر تشریف لے جاتے۔ قرب وجوار میں جنازہ میں ضرور شرکت کرتے اور تبلیغ دین کیلئے جہاں بھی جانا پڑتا بلا معاوضہ تشریف لے جاتے

آپ کو قرآن پاک سے حد درجہ محبت تھی۔ کثرت تلاوت کے ساتھ ساتھ آپ قرآن پاک اپنے ہاتھ سے بھی لکھتے اور نادار طلباء کو قرآن پاک کے دستی نسخے تعلیم کیلئے عطا فرماتے۔ آج بھی آپ کے ہاتھ کے لکھے ہوئے کئی نسخے حضرت شیخ پیر محمد افضل قادری کے ہاں نیک آباد شریف میں موجود ہیں۔

آپ نے سلوک کی منازل طے کرنے کیلئے حجۃ الکاملین قطب الارشاد حضرت سرکار قبلہ پیر سید ظہور الحسن شاہ رحمۃ اللہ علیہ قادری جیلانی سجادہ نشین دربار عالیہ بٹالہ شریف سے بیعت کی اور پھر آپ کے خلف ارشد غوث زمانہ پیر سید نذر محی الدین قادری جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے مزید تربیت حاصل کی اور سرکار بٹالوی نے آپ کو خصوصی اجازت وخلافت سے بھی نوازا تھا۔

مشائخ کی خصوصی توجہ اور عبادات وریاضت میں محنت شاقہ کے سبب خدا تعالیٰ نے آپ کو ولایت کاملہ اور کرامات باہرہ سے نوازا تھا۔ سینکڑوں لوگ آج بھی بقید حیات گواہ ہیں کہ ایک دفعہ پورا موسم گرما بیتا جا رہا تھا او ربارش نہیں ہو رہی تھی تو حضرت صاحب قبلہ نے نالہ بھمبر کے کنارے نماز استسقاء پڑھائی، اسی وقت کالی گھٹاچڑھی اور بہت زیادہ بارش ہوئی۔ حاضرین نماز بھیگتے ہوئے گھر واپس پہنچے حالانکہ نماز سے قبل آسمان میں بالشت کے برابر بھی بادل نہ تھا.

آپ کی دعاؤں سے بہت سے خوش نصیب لوگوں کو حضور نبی اکرمﷺکی زیارت کاشرف بھی نصیب ہوا۔ حضرت میاں شیر محمد صاحب شرقپوری رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ مجاز حضرت پیر محمد یعقوب شاہ صاحب آف ماجرہ شریف کو کسی وجہ سے زیارت نبوی بند ہو گئی تو دریائے راوی کے کنارے ایک مجذوب کی ہدایت پر آپ مراڑیاں شریف حضرت صاحب قبلہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپکی توجہ ودعا سے اسی رات زیارت نبوی سے مشرف ہو گئے۔ حضرت شاہ صاحب ہمیشہ مراڑیاں شریف میں ننگے پاؤں تشریف لاتے تھے اور فرماتے تھے کہ حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری اس قدر حضوری ہیں کہ اگر شرع شریف اس زمانے میں کسی کو صحابی کہنے کی اجازت دیتی تو میں برملا آپ کو صحابی کہتا۔

حضرت پیر سید محمد عربی شاہ قادری مہاجر مدنی جو صائم الدہر اور قائم اللیل صاحب کشف وکرامات بزرگ ہیں، نے ہجرت مدینہ سے قبل حضرت مولانا محمد نیک عالم قادری رحمۃ اللہ علیہ کے مزار شریف پر پانچ ماہ کا اعتکاف کیا۔ اپنے تحریری تاثرات میں فرماتے ہیں کہ میں نے اعتکاف کے دوران عجیب وغریب واقعات دیکھے اور صاحب مزار اور انکے سجادہ نشین سے قسم قسم کے فیوض وبرکات حاصل کیں اور کئی بار حضور نبی اکرمﷺ ، حضرت غوث اعظم رضی اللہ عنہ اور دیگر اولیاء اللہ کی زیارت نصیب ہوئی

وصال:
آپ 26رجب المرجب 1378ھ بمطابق 14فروری 1958ء دس بجے شب بروز ہفتہ کلمہ پڑھتے ہوئے راہی ملک بقا ہو گئے۔ وصال کے وقت بھی عجیب وغریب کرامات ظہور پذیر ہوئیں۔ اگلے روز آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں ہزار ہا عوام وخواص نے شرکت کی اور آپ کو مراڑیاں شریف کے جنوب میں جہاں آج کل جامعہ قادریہ عالمیہ ہے، میں ایک صاحب کرامات گیلانی سید صاحب کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ آپ کے اسم گرامی کی نسبت سے اس جگہ کا نام نیک آباد رکھا گیا۔

عرس مبارک:
آپکا سالانہ عرس مبارک ہر سال 27رجب المرجب صبح 9بجے تا نماز ظہر خانقاہ قادریہ عالمیہ نیک آباد (مراڑیاں شریف) گجرات پاکستان میں ہوتا ہے!!